کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو - محسن نقوی
کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو - محسن نقوی
کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو - محسن نقوی
محبت کی تمنا ہے تو پھر وو وصف پیدا کر
جہاں سے عشق چلتا ہے وہیں تک نام پیدا کر
اگر سچا ہے میرے عشق میں تو اے بنی آدم
نگاہے عشق پیدا کر ،جمال ذوق پیدا کر
میں تجھ کو تجھ سے زیادہ اور سب سے زیادہ چاہوں گا
مگر شرط یہ ہے کے پہلے میری جستجو تو پیدا کر
اگر نہ بادلوں ترے خاطر ، ہر ایک چیز تو کہنا
تو اپنے آپ میں پہلے اندازے وفا تو پیدا کر





اپنی مستی، کہ ترے قرب کی سرشاری میں
اپنی مستی، کہ ترے قرب کی سرشاری میں
اب میں کچھ اور بھی آسان ہوں دشواری میں
کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں
اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں
وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں
اے زمانے میں ترے اشک بھی رو لوں گا ، مگر
ابھی مصروف ہوں خود اپنی عزاداری میں
اس کے کمرے سے اٹھا لایا ہوں یادیں اپنی
خود پڑا رہ گیا لیکن کسی الماری میں
اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اک عمر گنوادی مری مسماری میں
ہم اگر اور نہ کچھ دیر ہوا دیں ، تو یہ آگ
سانس گھٹنے سے ہی مر جائے گی چنگاری میں
تم بھی دنیا کے نکالے ہوئے لگتے ہو ظہیر
میں بھی رہتا ہوں یہیں ، دل کی عملداری میں
شاعر ثنااللہ ظہیر

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے - ابراہیم ذوق
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا
چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے
لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں
اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے
بچیں گے رہ گزر یار تلک کیونکر ہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ سے
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے
رخِ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم
مہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے
شعلہ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں
پر یہی ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے
ذوق جو مدرسہ کے بگڑے ہوئے ہیں مُلا
ان کو مہ خانہ میں لے آؤ سنور جائیں گے

اپنی مستی، کہ ترے قرب کی سرشاری میں
اپنی مستی، کہ ترے قرب کی سرشاری میں
اب میں کچھ اور بھی آسان ہوں دشواری میں
کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں
اک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
میرے دن رات گزرتے ہیں اداکاری میں
وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں
اے زمانے میں ترے اشک بھی رو لوں گا ، مگر
ابھی مصروف ہوں خود اپنی عزاداری میں
اس کے کمرے سے اٹھا لایا ہوں یادیں اپنی
خود پڑا رہ گیا لیکن کسی الماری میں
اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اک عمر گنوادی مری مسماری میں
ہم اگر اور نہ کچھ دیر ہوا دیں ، تو یہ آگ
سانس گھٹنے سے ہی مر جائے گی چنگاری میں
تم بھی دنیا کے نکالے ہوئے لگتے ہو ظہیر
میں بھی رہتا ہوں یہیں ، دل کی عملداری میں


اداسی اک اسیری ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
اداسی ہی اداسی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
اداسی اور اداسی اور اداسی اور اداسی بس
اداسی مجھ پہ حاوی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
یقیں تیرا تھا بس مجھ کو خدارا کیوں کروں میں اب
تری ہستی خیالی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
بھٹکتا در بہ در رہتا ہوں میں وحشت کے سائے میں
مری مردہ جوانی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
پرستش کر رہا ہوں آج کل میں بس اداسی کی
اداسی جاودانی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
ہلاک عشق ہوں یاروں مجھے مارا محبت نے
مری غمگیں کہانی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں
تعلق ہے سیاست کا یہاں ہر بات سے حامدؔ
اداسی بھی سیاسی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا
محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا
پھر اس کے بعد کئی لوگ مل کے بچھڑے ہیں
کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا
ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے
کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا
تمام عمر گزر جاتی ہے کبھی پل میں
کبھی تو ایک ہی لمحہ بسر نہیں ہوتا
یہ اور بات ہے وہ اپنا حال دل نہ کہے
کوئی بھی شخص یہاں بے خبر نہیں ہوتا
عجیب لوگ ہیں یہ اہل عشق بھی اخترؔ
کہ دل تو ہوتا ہے پر ان کا سر نہیں ہوتا

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
یا اس پہ مبنی کوئی تأثر کوئی اشارا تو میں تمہارا
غرور پرور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا تو میں تمہارا
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہے لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا
تمہارا عاشق تمہارا مخلص تمہارا ساتھی تمہارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا تو میں تمہارا
تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا کوئی ٹوٹا کبھی ستارا تو میں تمہارا
یہ کس پہ تعویذ کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ تو میں تمہارا
عامر میر

جتنی اچھی باتیں ہیں
ساری تیری باتیں ہیں
جن میں تیرا ذکر نہیں
وہ بھی کوئی باتیں ہیں
جو چٹکی میں کہتے ہو
سوچی سمجھی باتیں ہیں
تیرا میرا کوئی نہیں
تیری میری باتیں ہیں
دیواروں کے ہونٹوں پر
ٹوٹی پھوٹی باتیں ہیں
جتنا پیارا چہرہ ہے
اتنی پیاری باتیں ہیں
نیا نیا تو دکھتا ہوں
وہی پرانی باتیں ہیں
اک انجانے نمبر پر
خاموشی ہی باتیں ہیں
شعروں سے تم دور رہو
چکنی چپڑی باتیں ہیں
جنہیں مکمل جانا تھا
وہی ادھوری باتیں ہیں
ان کے رنگ بھی ہوتے ہیں
یہ جو نیلی باتیں ہیں
الیاس بابر اعوان

وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاں
کسی پہ زور ہمارا کہاں چلے ہے میاں
جہاں بھی تھک کے کوئی کارواں ٹھہرتا ہے
وہیں سے ایک نیا کارواں چلے ہے میاں
جو ایک سمت گماں ہے تو ایک سمت یقیں
یہ زندگی تو یوں ہی درمیاں چلے ہے میاں
بدلتے رہتے ہیں بس نام اور تو کیا ہے
ہزاروں سال سے اک داستاں چلے ہے میاں
ہر اک قدم ہے نئی آزمائشوں کا ہجوم
تمام عمر کوئی امتحاں چلے ہے میاں
وہیں پہ گھومتے رہنا تو کوئی بات نہیں
زمیں چلے ہے تو آگے کہاں چلے ہے میاں
وہ ایک لمحۂ حیرت کہ لفظ ساتھ نہ دیں
نہیں چلے ہے نہ ایسے میں ہاں چلے ہے میاں
جاں نثاراختر

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو